پاپولرفرنٹ آف انڈیا کرناٹک کی اسٹیٹ جنرل اسمبلی میٹنگ
مندوبین کے روبرو عوامی قرارداد منظور، چیرمین ای ایم عبدالرحمن کی شرکت
Sunday, December 27th, 2009
بنگلور : 27 - ڈسمبر پاپولرفرنٹ آف انڈیا ایک عوامی تنظیم ہے جو اپنے کیڈر بیس سسٹم اور ڈسپلن کے ساتھ ساتھ مکمل ایمپورمنٹ کے وسیع وعریض ایجنڈے پر مسلسل جدود کرتی آرہی ہے۔ دوسال میں ایک مرتبہ تنظیم کے انتخابات ہوتے ہیں اور ہرسال اسٹیٹ جنرل اسمبلی میٹنگ میں ریاست بھر کے لیڈران کی کارروائیوں کا جائزہ واحتساب ہوتاہے۔ شوریٰ سسٹم اور احتساب کا یہ طریقہ ہی اس تنظیم کو ملک کی 17 ریاستوں میں کیڈر بیس کمیٹیوں کی تشکیل اور مخلص کارروائیوں میں مدد گار ثابت ہواہے۔
کرناٹک میں کے ایف ڈی کے نام سے شروع ہوئی یہ تنظیم ’’پاپولرفرنٹ آف انڈیا‘‘ میں ضم ہوکر قومی وملی ایجنڈے پر گامزن ہے۔ ملک کے جمہوری نظام اور دستور کی پابند یہ تنظیم عوام تک پہنچ کر ان میں بیداری اور احتجاجی کارروائی کے تحت مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ علماء، طلباء، وکلاء، خواتین اور نوجوانوں میں خود اعتمادی پیداکرنے کیلئے منصوبہ بند طریقہ سے جدوجہد جاری ہے۔
پاپولرفرنٹ آف انڈیا کے ریاستی صدر جناب عبدالطیف صاحب، نائب صدر جناب عبدالواحد سیٹھ، جنرل سکریٹری افسر پاشاہ، سکریٹری الیاس محمد وخزانچی جناب ریاض پاشاہ کے علاوہ تمام اسٹیٹ ایکزی کیٹیو کمیٹی کے اراکین اور ڈسٹرکٹ ، ڈویژن کے پرسیڈنٹ اور سکریٹریز نے اس اسٹیٹ جنرل اسمبلی میٹنگ میں شرکت کی۔
اس اسٹیٹ جنرل اسمبلی میٹنگ میں منظور شدہ قرارداد یہاں پیش خدمت ہے جسے مرکزی اور ریاستی سیاسی اور سماجی عمائدین تک پہنچائی گئی ہے۔
بابری مسجد کی شہادت جمہوریت کے قتل کے مترادف ہے۔ عوام میں بدامنی پھیلانے اور فرقہ وارانہ ماحول کو عام کرنے کی غرض سے زعفرانی قوموں کی جانب سے یہ ایک گندی حرکت ہے۔ لبرہن کمیشن اپنی 17 سالہ طویل مدت کے بعد بابری مسجد کی شہادت کے تعلق سے اپنی رپورٹ میں واضح طورپر 68 مجرموں کی نشاندہی کی ہے۔ ہم مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوراً ان مجرموں کو جمہوریت اور ملک کے دستور کی بے عزتی کرنے کے جرم میں گرفتار کرے۔



















